اتوار 27 ستمبر 2026 - 21:19
اموی حکمرانوں کی طرح زائرین امیرالمؤمنین (ع) کا راستہ بند نہ کریں!

حوزہ / آیت اللہ محسن اراکی نے عراقی حکومت کی جانب سے امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام اور سیدالشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کے زائرین کے لیے فضائی راستہ بند کیے جانے کے اقدام پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر موجودہ عراقی حکومت اپنی طاغوتی پالیسی اور امریکی طاغوت کی مکمل اطاعت پر اصرار کرتی ہے تو وہ دیگر ظالم اور طاغوتی نظاموں کی طرح شمار ہوگی اور اس پر طاغوت سے متعلق تمام احکام جاری ہوں گے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مجلس خبرگان رہبری کی مجلسِ عاملہ کے رکن اور شورای عالی حوزه علمیہ کے رکن آیت اللہ محسن اراکی نے اپنے ایک بیانیہ میں عراقی حکومت کی جانب سے حالیہ اقدامات، امریکی طاغوت کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے اور امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام و سیدالشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کے زائرین کے لیے فضائی راستہ بند کرنے کے حوالے سے اپنے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ان کے بیانیہ کا متن حسبِ ذیل ہے:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

خداوند متعال فرماتا ہے: وَالَّذِینَ کَفَرُوا أَوْلِیَاؤُهُمُ الطَّاغُوتُ ’’اور جن لوگوں نے کفر اختیار کیا، ان کے سرپرست طاغوت ہیں۔‘‘ (سورۂ بقرہ، آیت 257)

عراقی حکومت کی جانب سے امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام اور شہیدِ کربلا حضرت امام حسین علیہ السلام کے زائرین کا راستہ بند کرنے کے لیے جو اقدام کیا گیا ہے، اس نے موجودہ عراقی حکومت کو امریکی طاغوت کا ایک ذلیل اور تابع فرمان تسلسل بنا دیا ہے اور اسے ان دیگر طاغوتی حکمرانوں کی صف میں شامل کردیا ہے جو اس سے قبل عراق پر حکمرانی کر چکے ہیں۔ یہ اقدام اس حکومت سے دینی مشروعیت کے تمام عناصر اور بنیادوں کو سلب کردیتا ہے۔

لہٰذا اگر یہ حکومت اپنی طاغوتی پالیسی اور امریکی طاغوت کی مکمل اطاعت پر اصرار کرتی ہے تو وہ دیگر ظالم اور طاغوتی نظاموں کی مانند ہوگی اور اس پر طاغوت سے متعلق تمام احکام جاری ہوں گے۔

ایسی صورت میں مسلمانوں کے لیے اس حکومت کے ساتھ ایک شرعی نظام کی حیثیت سے تعامل کرنا حرام ہوگا، بلکہ اس کا حکم اموی نظام اور ان دیگر نظاموں جیسا ہوگا جو رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپؐ کے پاکیزہ اہل بیت علیہم الصلوٰۃ والسلام سے دشمنی کی راہ پر گامزن رہے ہیں۔

اسی طرح طاغوتی حکمرانوں کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جن سے تعامل اور ان کے ساتھ تعاون و ہمراہی سے اجتناب کرنا چاہیے جیسا کہ خداوند سبحان فرماتا ہے:

وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِی کُلِّ أُمَّةٍ رَسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ فَمِنْهُمْ مَنْ هَدَی اللَّهُ وَمِنْهُمْ مَنْ حَقَّتْ عَلَیْهِ الضَّلَالَةُ فَسِیرُوا فِی الْأَرْضِ فَانْظُرُوا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَةُ الْمُکَذِّبِینَ۔

’’اور بے شک ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے اجتناب کرو۔ پھر ان میں سے کچھ ایسے تھے جنہیں اللہ نے ہدایت دی اور کچھ ایسے تھے جن پر گمراہی ثابت ہوگئی۔ پس زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا۔‘‘ (سورۂ نحل، آیت 36)

محسن اراکی

14 ربیع الثانی 1448ھ / 26 ستمبر 2026ء

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha